سنا ہے خانقاہوں میں محبت کے ہیں مییخانے
دیا کرتا ہے ساقی عاشقوں کو جام پیمانے
ساقی پلا دے جام بھر بھر کے
ہم کو پلا دے ۔۔۔۔
مرشد پلا دے۔۔۔۔
خلاف راہ سنت جو بنا کرتے ہیں مستانے
وہ دیوانے بظاہر ہیں مگر اندر ہیں فرزانے
سیا کرتا ہے ساقی عاشقوں کو جام پیمانے
ساقی۔۔۔۔
جو عارف ہیں وہ کس عالم میں رہتے ہیں خدا جانے
بھلا جو غیر عارف ہیں وہ ان کا رتبہ کیا جانیں
دیا کرتا ہے ساقی عاشقوں کو جام پیمانے
ساقی۔۔۔
حسینوں کے اجڑ جائیں گے جب جغرافیہ اک دن
بتا ناداں کہاں جائے گا اپنے دل کو بہلانے
دیا کرتا ۔۔۔۔
ساقی۔۔۔
ستایا عمر بھر بو جہل نے شمع نبوت کو
مگر بدنام ہیں دونوں جہانیں اس کے افسانے
دیا کرتا ۔۔۔
ساقی۔۔
وہی کرتے ہیں ان کے عاشقوں پر تبصرے اختر
جو ظالم درد الفت سے ہوا کرتے ہیں بیگانے
دیا کرتا ۔۔۔
ساقی۔۔۔
جو یاد آتی ہے ان کی دل میں گھبراتا ہوں گلشن میں
مجھے تو قرب کا عالم دیا ہے آہ سحرا نے
دیا کرتا ۔۔۔۔
ساقی۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment